انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 جون۔2020ء ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی ایئربس کا کہنا ہے کہ 22 مئی کو کراچی میں گرنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی پرواز پی کے 8303 پر اے آئی ٹی (ایکسیڈنٹ انفارمیشن ٹرانسمیشن) کو سول ایوی ایشن سیفٹی کے لیے فرانسیسی بیورو آف انکوائری اینڈ انیلیسیس (بی ای اے) اور پاکستان ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) نے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے.چیف پروڈکٹ سیفٹی آفیسر یننک مالنج نے A320 طیاروں کو چلانے والی تمام ایئر لائنز کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ایئربس سرکاری تفتیشی حکام کو مناسب طور پر اپ ڈیٹ فراہم کرتی رہے گی واضح رہے کہ کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ گرنے کے فوراً بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت نے ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی تھی. پاکستانی تفتیش کاروں کو تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے ایئربس نے 11 رکنی ٹیم پاکستان بھیجی تھی فرانسیسی ٹیم اور ایئر کموڈور عثمان غنی، ایف ڈی آر اور سی وی آر کو لے کر اس کا تجزیہ کرنے کے لیے فرانس روانہ ہوئے تھے جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے تفتیش کاروں کو اہم معلومات ملیں گی.ذرائع نے بتایا کہ ائیر کموڈور عثمان غنی ایف ڈی آر اور سی وی آر کی معلومات کے ساتھ آج اسلام آباد واپس پہنچیں گے اے اے آئی بی اپنی ابتدائی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر ایوی ایشن کو پیش کرے گی وزیر ایویشن غلام سرور خان نے کہا تھا کہ حکومت 22 جون کو پارلیمنٹ میں پی آئی اے کے طیارے کے حادثے سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی.یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر رہائشی آبادی پر گرگیا تھا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے‘اس حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی.اس کے علاوہ طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے ماہرین کی خصوصی ٹیم بھی پاکستان میں موجود ہے جو ایئرکرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے آئی آئی بی) کے حکام کے ساتھ اس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کررہی ہے. تباہ ہونے والے طیارے اے 320 کو تیار کرنے والے کمپنی ایئر بس نے 11 اے اے آئی بی کے تفتیش کاروں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے 11 رکنی ٹیم پاکستان بھجوائی تھی حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایئربس کی تحقیقاتی ٹیم نے مسلسل 3 روز جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں شواہد اکٹھے کیے جبکہ رن وے اور ایئر پورٹ کے احاطے کا بھی جائزہ لیا تھا.بعدازاں ٹیم اے اے آئی بی کے صدر ایئر کموڈور عثمان غنی کے ہمراہ طیارے کے بلیک باکس کے 2 اجزا کاکپٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر لے کر فرانس واپس چلی گئی تھی جہاں اس پر کام جاری ہے.
رپورٹ کے مطابق ایئربس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ای اے ایس اے، سفران ایئرکرافٹ انجنیئراور ایئر بس کی جانب سے پاکستان کے اے اے بی کی سربراہی میں پیرس میں بی ای اے کی سہولیات میں فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) اور کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) کا جائزہ لیا گیا. ان کا کہنا تھا کہ دونوں ریکارڈرز ایف ڈی آر اور سی وی آر نے تفتیش کے لیے اہم معلومات فراہم کی ہیں انہوں نے کہا کہ دستیاب ڈیٹا (جائے وقوع سے متعلق معلومات، اے ٹی سی ریکارڈ، ایف ڈی آر اور سی وی آر) کے ابتدائی تجزیے کی بنیاد پر ایئربس کے پاس تحقیقات کے اس مرحلے پر کسی قسم کی حفاظتی تجاویز نہیں ہے.

Comments
Post a Comment